Humane Foundation
پائیدار زندگی

جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ: H5N1 زونوٹک خطرے کا مختصر جائزہ 2024

جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے طریقوں کو اپنانا H5N1 جیسے زونوٹک بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

بقلم ڈاکٹر فاطمہ رضوی4 منٹ مطالعہاسلام آباد, PAK
جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے لیے ماحول دوست بازار کا منظر۔
Humane Foundation

جنوب مشرقی ایشیا میں پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے طریقوں کو اپنانا H5N1 جیسی زونوٹک بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہے۔ غیر پائیدار زرعی پریکٹسز، خاص طور پر پولٹری فارمنگ میں، وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہیں، جس سے نہ صرف جانوروں بلکہ انسانوں میں بھی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پائیدار حل خطرے میں کمی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔

H5N1 زونوٹک خطرہ کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟

H5N1 انفلوئنزا وائرس، جسے عام طور پر 'برڈ فلو' کہا جاتا ہے، بطخوں، مرغیوں اور دیگر پرندوں میں شدید بیماری کا باعث بنتا ہے اور یہ انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس بنیادی طور پر متاثرہ پرندوں کے فضلہ، تھوک، یا سانس کی رطوبتوں کے براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں گھنی آبادی والے پولٹری فارمز اور بھیڑ بھاڑ والے لائیو اینیمل مارکیٹس اس کے پھیلنے کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہیں (WHO, 2023)۔

جانوروں سے انسانوں میں بیماری کا پھیلاؤ کیسے ہوتا ہے؟

H5N1 کا جانوروں سے انسانوں میں پھیلاؤ عام طور پر متاثرہ پرندوں کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ گہرے رابطے سے ہوتا ہے۔ اس میں بیمار پرندوں کو سنبھالنا، ان کی صفائی کرنا، یا ان کے فضلے والی فضا میں سانس لینا شامل ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں چھوٹے پیمانے پر فارمنگ اور پولٹری کی نقل و حرکت کے غیر معیاری طریقے اس خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مرغیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے وقت ناقص وینٹیلیشن اور صفائی کے فقدان سے وائرس آسانی سے پھیل سکتا ہے (FAO, 2021)۔

خطرے کا عنصرتفصیلH5N1 کے پھیلاؤ پر اثر
بھیڑ بھاڑ والے فارمزتنگ جگہ پر بہت زیادہ پرندوں کو رکھناوائرس کی تیز رفتار منتقلی کا باعث
لائیو اینیمل مارکیٹسمختلف جانوروں کا انسانوں کے ساتھ قریب سے رابطہنئی نسلوں میں وائرس کی منتقلی
غیر معیاری نقل و حرکتپولٹری کی غیر صحت بخش گاڑیاں اور پیکنگفارم سے بازار تک وائرس کا پھیلاؤ
ناکافی بائیو سیکیورٹیفارمز پر حفظان صحت کے اصولوں کی کمیمتاثرہ پرندوں سے صحت مند پرندوں میں آسان منتقلی
غیر علاج شدہ فضلہپولٹری فضلے کا مناسب طریقے سے انتظام نہ کرناماحول میں وائرس کا پھیلاؤ
جنوب مشرقی ایشیا میں H5N1 پھیلاؤ کے اہم خطرے والے عوامل۔ Source: WHO, 2023

جنوب مشرقی ایشیا میں صنعت کے کون سے طریقے H5N1 کے خطرے کو بڑھا رہے ہیں؟

جنوب مشرقی ایشیا میں پولٹری کی صنعت میں ایسے بہت سے طریقے رائج ہیں جو H5N1 کے زونوٹک خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ ان میں گھنی آباد فارمنگ یونٹس، ناقص بائیو سیکیورٹی اقدامات، اور مقامی لائیو اینیمل مارکیٹس میں زندہ پرندوں کی فروخت شامل ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، ان عوامل کے نتیجے میں وائرس آسانی سے پھیلتا ہے اور انسانوں میں اس کے منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (WHO, 2023)۔

پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے طریقوں کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مرغیوں کو اکثر غیر صحت بخش حالات میں طویل فاصلے تک منتقل کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف پرندوں پر دباؤ پڑتا ہے بلکہ وائرس کے پھیلاؤ کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ H5N1 کو کیسے روک سکتی ہے؟

پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے طریقوں کو اپنا کر H5N1 کے پھیلاؤ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کھیتوں سے بازار تک پرندوں کی نقل و حرکت کے دوران حفظان صحت کے سخت اصولوں پر عمل کرنا، بہتر وینٹیلیشن والے کیجز کا استعمال، اور نقل و حمل کے بعد گاڑیوں کی مناسب صفائی شامل ہے۔

ایسی پالیسیاں جو جانوروں کی فلاح و بہبود کو بہتر بناتی ہیں اور سٹریس کو کم کرتی ہیں وہ بھی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ تناؤ جانوروں کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں H5N1 کے انسانی کیسز (2003-2023)

Source: WHO, 2023

اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا حکومتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟

جنوب مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک نے H5N1 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پالیسیاں نافذ کی ہیں۔ ان میں پولٹری فارمز میں بائیو سیکیورٹی کے سخت اقدامات، بیمار پرندوں کی ہلاکت، اور ویکسینیشن پروگرام شامل ہیں۔

"H5N1 جیسے زونوٹک امراض سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی پالیسیاں کافی نہیں ہیں۔ کمیونٹی کی شمولیت، بہتر حفظان صحت کے عادات اور پائیدار زرعی پریکٹسز اس کا پائیدار حل ہیں۔"

پروفیسر احمد کمال، نیشنل پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ

حکومتیں بیماری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہیں اور عوام کو آگاہی فراہم کر رہی ہیں کہ کس طرح متاثرہ پرندوں سے بچا جائے۔ بین الاقوامی اداروں، جیسے کہ WHO اور FAO، کے تعاون سے تکنیکی مدد اور مالی وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ روک تھام اور کنٹرول کی کوششوں کو تقویت ملے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

H5N1 وائرس کتنی جلدی انسانوں میں پھیل سکتا ہے؟+

H5N1 وائرس کی انسانوں میں منتقلی نادر ہے، لیکن جب ایسا ہوتا ہے تو یہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر متاثرہ پرندوں کے ساتھ قریبی اور طویل رابطے سے پھیلتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو پولٹری فارمز یا لائیو اینیمل مارکیٹس میں کام کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر انسانی کیسز کی تعداد اب تک relativamente کم ہے۔

پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے طریقے کیسے زونوٹک بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں؟+

پائیدار نقل و حرکت اور پیکنگ کے طریقوں سے جانوروں کے دباؤ کو کم کیا جاتا ہے، حفظان صحت کو بہتر بنایا جاتا ہے، اور وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول کو ختم کیا جاتا ہے۔ اس میں بہتر وینٹیلیشن والے پینجروں کا استعمال، کم مسافت کی نقل و حرکت، اور دوبارہ قابل استعمال، آسانی سے صاف ہونے والی پیکنگ شامل ہے جو کراس کنٹیمینیشن کو روکتی ہے۔

کیا H5N1 صرف پولٹری سے ہی انسانوں میں پھیلتا ہے؟+

H5N1 بنیادی طور پر پولٹری، خاص طور پر مرغیوں اور بطخوں سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ تاہم، کچھ صورتوں میں یہ پالتو جانوروں یا دیگر جنگلی پرندوں سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ممالیہ جانوروں میں بھی اس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن انسانوں میں اس کی منتقلی کا بڑا ذریعہ پولٹری ہی ہے (CDC, 2022)۔

Enjoyed this? Save or share.

پائیدار زندگی

نمایاں