جنوبی بحر ہند فشریز ایگریمنٹ (SIOFA) کے ذریعے حال ہی میں متعارف کرایا گیا 90 روزہ گہرا منصوبہ، جو 15 مارچ 2024 سے نافذ العمل ہوا ہے، اس کا مقصد عالمی سی فوڈ سپلائی چینز میں غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم (IUU) ماہی گیری پر سخت کارروائی کرنا ہے۔ یہ منصوبہ سمندری ماحولیاتی نظام کی پائیداری، سمندری حیات کے تحفظ، اور صنعت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں IUU فشنگ اکثر محنت کشوں کے استحصال اور غلامی سے منسلک ہوتی ہے۔
IUU فشنگ کیا ہے اور یہ عالمی سی فوڈ سپلائی کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم (IUU) ماہی گیری سمندری وسائل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ ماہی گیری کے انتظام کے قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے، ماہی گیری کے اسٹاک کو کم کرتی ہے، اور سمندری ماحولیاتی نظام کو تباہ کرتی ہے۔ IUU فشنگ عالمی سمندری غذا کی فراہمی میں اہم رکاوٹیں پیدا کرتی ہے، کیونکہ اس سے بازار میں غیر قانونی طور پر حاصل کردہ مصنوعات کی آمد بڑھ جاتی ہے، جس سے قانونی ماہی گیروں کو نقصان ہوتا ہے اور صارفین کے لیے غیر محفوظ مصنوعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے (EU Commission, 2023)۔
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق، IUU فشنگ عالمی سطح پر ماہی گیری سے حاصل ہونے والے کل کیچ کا 20% سے 30% تک حصہ بناتی ہے، جس کی تخمینہ شدہ قیمت سالانہ 10 سے 23 بلین امریکی ڈالر ہے (UNEP، 2022)۔ یہ نہ صرف اقتصادی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ سمندروں کی حیاتیاتی تنوع اور پائیداری کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔
90 روزہ گہرا منصوبہ IUU فشنگ کا مقابلہ کیسے کرے گا؟
جنوبی بحر ہند فشریز ایگریمنٹ (SIOFA) کے تحت شروع کیا گیا یہ 90 روزہ گہرا منصوبہ رکن ممالک کو ہدف بنائے گئے اقدامات پر عمل درآمد کرنے کا پابند کرتا ہے۔ ان اقدامات میں فشنگ سرگرمیوں کی بہتر نگرانی، سمندر میں موجود کشتیوں کا معائنہ، اور متعلقہ معلومات کا فوری تبادلہ شامل ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے، سمندری حدود میں گشت میں اضافہ کیا جائے گا اور مصنوعی سیاروں کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ لگایا جائے گا۔

SIOFA کے سیکرٹریٹ کے ایک نمائندے نے بتایا، "یہ منصوبہ ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد IUU فشنگ کی زنجیر کو توڑنا ہے، خاص طور پر جنوبی بحر ہند کے حساس علاقوں میں" (SIOFA، 2024)۔ اس میں بندرگاہوں پر معائنہ بھی شامل ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اترنے والی مچھلی قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی ہے۔
| اثرات کی قسم | تفصیل | اندازہ شدہ سالانہ نقصان (بلین USD) |
|---|---|---|
| سمندری حیات کا خاتمہ | مچھلی کے اسٹاک میں کمی، نایاب انواع پر دباؤ | 5-10 |
| ماحولیاتی تباہی | غیر مستحکم شکار کے طریقے، مرجان کی چٹانوں کو نقصان | 2-4 |
| معاشی نقصان | قانونی ماہی گیروں کی آمدنی میں کمی، بازار میں بگاڑ | 3-7 |
| انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں | جبری مشقت، غلامی، غیر محفوظ کام کے حالات | نامعلوم (غیر مالیاتی) |
| خوراک کی حفاظت | معلومات کا فقدان، آلودہ مصنوعات کا خطرہ | 1-2 |
ماحولیاتی پائیداری اور انسانی حقوق پر اس منصوبے کے کیا مضمرات ہیں؟
IUU فشنگ سمندری ماحول کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اور اسے عالمی سمندری غذا کی پائیداری کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ صنعت اکثر غیر انسانی حالات سے منسلک ہوتی ہے، جہاں ماہی گیروں کو جبری مشقت، انتہائی کم اجرت، اور غیر محفوظ ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے (Human Rights Watch, 2023)۔ یہ منصوبہ ماہی گیری کے جہازوں پر نگرانی بڑھا کر ان خلاف ورزیوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
“غیر قانونی ماہی گیری نہ صرف سمندری حیات کو تباہ کرتی ہے بلکہ یہ انسانوں کو بھی شکار بناتی ہے۔ یہ 90 روزہ منصوبہ ماحولیاتی اور سماجی دونوں پائیداری کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔”
عالمی بحری حدود میں 2023 میں 250 سے زائد IUU فشنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 60% جنوب مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل کے علاقوں سے تھے (Fisheries Crime Task Force, 2024)۔ یہ منصوبہ ان علاقوں میں بھی ایک مثال قائم کرے گا اور دیگر علاقائی ماہی گیری تنظیموں کو اسی طرح کے اقدامات کرنے کی ترغیب دے گا۔
عالمی IUU فشنگ واقعات کا رجحان (2019-2023)
پودوں پر مبنی غذا کا IUU فشنگ سے کیا تعلق ہے؟
پودوں پر مبنی غذا کی طرف بڑھتا ہوا عالمی رحجان سمندری غذا کی طلب کو کم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں IUU فشنگ پر پڑنے والا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ جب مچھلی اور سمندری غذا کی کھپت کم ہوتی ہے، تو غیر قانونی طریقوں سے ماہی گیری کی ترغیب بھی کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، اگر عالمی سطح پر سمندری غذا کی کھپت میں 25% کمی آجائے، تو IUU فشنگ کے واقعات میں 15% تک کمی آ سکتی ہے (Marine Conservation Institute, 2023)۔
پودوں پر مبنی متبادلات، جیسے کہ سمندری سبزیوں سے بنے 'فش فلے' یا مشروم پر مبنی 'کلیم چاوڈر'، سمندری ماحولیاتی نظام پر دباؤ کم کرنے کا ایک پائیدار حل پیش کرتے ہیں۔ یہ متبادلات نہ صرف ماحولیاتی فوائد رکھتے ہیں بلکہ صارفین کو غذائیت سے بھرپور اور محفوظ خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
IUU فشنگ کے عالمی اقتصادی اثرات کیا ہیں؟+
IUU فشنگ کے عالمی اقتصادی اثرات بہت سنگین ہیں۔ اس سے عالمی معیشت کو سالانہ 10 سے 23 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہوتا ہے (UNEP، 2022)۔ یہ قانونی ماہی گیروں کے لیے غیر منصفانہ مقابلہ پیدا کرتا ہے، بازار میں بگاڑ پیدا کرتا ہے، اور قومی آمدنی کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ٹیکس کی ادائیگی نہیں ہوتی۔
یہ نیا 90 روزہ منصوبہ خاص طور پر کس علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے؟+
یہ نیا 90 روزہ منصوبہ خاص طور پر جنوبی بحر ہند کے علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے، جو جنوبی بحر ہند فشریز ایگریمنٹ (SIOFA) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس علاقے میں خاص قسم کی سمندری حیات موجود ہے جو IUU فشنگ کی وجہ سے خطرے میں ہے۔
صارفین IUU فشنگ کا مقابلہ کرنے میں کیسے مدد کر سکتے ہیں؟+
صارفین IUU فشنگ کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں سمندری غذا خریدتے وقت اس کی اصلیت اور پائیداری کی تصدیق کرنی چاہیے، پائیدار ماہی گیری کے لیبل والی مصنوعات کا انتخاب کرنا چاہیے، اور پودوں پر مبنی سمندری غذا کے متبادلات کو اپنانا چاہیے۔
کیا ٹیکنالوجی IUU فشنگ کے خلاف جنگ میں مدد کر سکتی ہے؟+
جی ہاں، ٹیکنالوجی IUU فشنگ کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سیٹلائٹ کی نگرانی، جہازوں کو ٹریک کرنے والے سسٹمز (VMS)، اور بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سپلائی چین کی شفافیت کو بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ لگانا اور ان کا مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
IUU فشنگ کی وجہ سے انسانی حقوق کی کون سی خلاف ورزیاں عام ہیں؟+
IUU فشنگ اکثر جبری مشقت، غلامی، اسمگلنگ، اور ماہی گیروں کو غیر محفوظ اور غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کرنے سے منسلک ہے۔ یہ خلاف ورزیاں ان جہازوں پر عام ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور نگرانی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں (Human Rights Watch, 2023)۔









